کابل (سچ نیوز ) افغانستان نے وزیراعظم عمران خان کے عبوری حکومت کے قیام سے متعلق بیان پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے سفیر کو واپس بلا لیاہے تاہم دفتر خارجہ نے بھی وزیراعظم عمران خان کے بیان سے متعلق وضاحت جاری کر تے ہوئے کہاہے کہ بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ، وزیراعظم نے پاکستان کے نظام کا حوالہ دیا تھا، پاکستان میں نگران حکومت کے تحت انتخابات ہوتے ہیں۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کر دہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے بیان کو افغانستان کے داخلی امورمیں مداخلت نہ سمجھا جائے، پاکستان افغان قیادت میں امن عمل کی کامیابی کے علاوہ کسی قسم کے مفاد کی خواہش نہیں رکھتا،وزیراعظم عمران خان نے افغان مفاہمتی عمل کوکامیاب بنانے کیلئے ذاتی دلچسپی لی ہے ، افغان مفاہمتی عمل کے اہم موڑ پر پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے،وزیراعظم عمران خان افغان عوام کے پ±رامن انداز میں رہنے کے حق کو سمجھتے ہیں،افغان عوام نے 4 دہائیاں جنگ اور تشدد کے زیر اثر گزاری ہیں۔ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹ کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے بیان کو ’غیر ذمہ دارانہ ‘ قرار دیا جارہاہے ، عمران خان نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا تھا کہ افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام سے امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات ہموار طریقے جاری رہ سکیں گے کیونکہ طالبان نے افغانستان کی موجودہ حکومت سے بات چیت سے انکار کر دیا ہے ۔پاکستان میں افغانستان کے سفیر عاطف مشعل نے رات گئے اپنے ٹویٹر اکاﺅنٹ پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے بیان کے بعد میں اپنی حکومت کے کہنے پر مشاورت کی غرض سے واپس کابل جا رہا ہوں ۔افغانستان نے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر پاکستان کے ڈپٹی سفیر کو طلب کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کروایا ۔افغان وزارت خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھاکہ ” افغان حکومت وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے دیے گئے بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کرتی ہے اور ایسے بیانات واضح مثال ہیں کہ پاکستان افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور افغان عوام کی خودمختاری کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔“