ولنگٹن(سچ نیوز) سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد آج نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعظم جیسنڈا ارڈن نے ایسے عزم کا اظہار کیا کہ دنیا ایک بار پھر ان کے انسانی ہمدردی کے جذبے کی معترف ہو گئی۔ خلیج ٹائمز کے مطابق اس اجلاس کی کارروائی کا آغاز تلاوت کلام مجید سے کیا گیا اور وزیراعظم جیسنڈا نے اپنی تقریر کی ابتدا ’السلام و علیکم‘ سے کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں اس عزم کا اظہار کیا کہ ”میں کبھی سانحہ کرائسٹ چرچ کے حملہ آور کا نام اپنی زبان پر نہیں لاﺅں گی۔ اسے قانون کی پوری طاقت کا سامنا کرنا ہو گا۔وہ اس واقعے کے ذریعے شہرت پانا چاہتا تھا لیکن میں نیوزی لینڈ کے غمزدہ عوام سے عہد کرتی ہوں کہ میں اسے یہ شہرت حاصل نہیں ہونے دوں گی۔“وزیراعظم جیسنڈا کا مزید کہنا تھا کہ ”حملہ آور اپنی دہشت گردانہ کارروائی کے ذریعے بہت کچھ پانا چاہتا تھا لیکن اسے بدنامی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کبھی میرے منہ سے اس کا نام نہیں سنیں گے۔ وہ ایک دہشت گرد ہے۔ وہ ایک مجرم ہے لیکن میں جب بھی بولوں گی وہ بے نام ہی رہے گا۔ میں آپ لوگوں سے بھی التماس کرتی ہوں کہ آپ بھی ان لوگوں کے نام لیجیے، جنہوں نے اس سانحے میں اپنی جانیں گنوائی ہیں۔ اس حملہ آور کا نام مت لیں جس نے ان کی جانیں لیں۔“






