8 °c
Islamabad
7 ° ہفتہ
8 ° اتوار
10 ° پیر
10 ° منگل
پیر, دسمبر 8, 2025
  • Login
  • صفحہ اول
  • Live Tv
  • Chat Room
  • شاعری
  • ہماری ٹیم
  • مزید
    • ویڈیو آرکائیو
    • غربت کا حصہ
    • کہانیاں
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • Live Tv
  • Chat Room
  • شاعری
  • ہماری ٹیم
  • مزید
    • ویڈیو آرکائیو
    • غربت کا حصہ
    • کہانیاں
No Result
View All Result
No Result
View All Result
ہوم خبریں
نیوزی لینڈ حملوں کے بعد اب تک کتنے شہریوں نے خود ہی اپنی بندوقیں حکومت کے پاس جمع کروادیں؟

نیوزی لینڈ حملوں کے بعد اب تک کتنے شہریوں نے خود ہی اپنی بندوقیں حکومت کے پاس جمع کروادیں؟

نیوزی لینڈ حملوں کے بعد اب تک کتنے شہریوں نے خود ہی اپنی بندوقیں حکومت کے پاس جمع کروادیں؟

27/03/2019
0 0
0
شئیرز
10
ویوز
Share on FacebookShare on Twitter

ولنگٹن(سچ نیوز) سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد جب نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا ارڈرن نے اسلحے سے متعلق قوانین کو مزید سخت بنانے کا اعلان کیا اور لوگوں کو رضاکارانہ طور پر اسلحہ واپس جمع کرانے کی ترغیب دی، تب سے 37لوگ رضاکارانہ طور پر اسلحہ پولیس سٹیشنز میں جمع کروا چکے ہیں۔ بزفیڈ نیوز کے مطابق پولیس کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت پورے نیوزی لینڈ میں مختلف اقسام کی 12لاکھ بندوقیں عام شہریوں کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔ اگر نیوزی لینڈ کی آبادی کے تناسب سے یہ تعداد دیکھی جائے تو اس کا مطلب ہے کہ نیوزی لینڈ کے ہر چار میں سے ایک شہری کے پاس اسلحہ موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد وزیراعظم جیسنڈا ارڈرن نے کہا تھا کہ ”اپنے معاشرے کو محفوظ بنانے کے لیے کام کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ میں لوگوں کو یاد دلانا چاہتی ہوں کہ تم پولیس سٹیشن جا کر کسی بھی وقت اسلحہ واپس جمع کرا سکتے ہو۔ میں نے رپورٹس دیکھی ہیں کہ لوگوں نے پہلے ہی اسلحہ جمع کرانا شروع کر دیا ہے۔ میں ان کی اس کوشش کی تعریف کرتی ہوں اور اگر آپ بھی اسلحہ واپس کرنے کا سوچ رہے ہیں تو میں آپ کی حوصلہ افزائی کروں گی۔“ رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کے شہری اسلحہ جمع کرانے کے بعد پولیس کی طرف سے ملنے والی رسیدیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک جان ہارٹ نامی شخص نے ٹوئٹر پر رسید کا عکس پوسٹ کیا اور لکھا کہ ”آج سے پہلے میں نیوزی لینڈ کے ان شہریوں میں سے ایک تھا جن کے پاس سیمی آٹومیٹک رائفلیں ہیں۔ فارم ہاﺅس پر بعض صورتحال میں یہ فائدہ مند ہوتی ہیں لیکن ان کا غلط استعمال ہونے کا خطرہ بہرحال رہتا ہے۔ ہمیں اپنے ملک میں ان رائفلوں کی ضرورت نہیں ہے۔“

ShareSendTweetShare

Related Posts

اردو _ ہماری پہچان!
خبریں

عنوان: میڈیا کا ہماری زندگیوں میں کردار

31/10/2023
خبریں

معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کے صاحبزادے فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق

30/10/2023
خبریں

تحریر۔۔۔۔ بشریٰ جبیں  کالم نگار تجزیہ کار

26/10/2023
خبریں

*نوجوانوں کو توجہ کی ضرورت*

25/10/2023
خبریں

گرد آلود لہو لہو چہرے!

25/10/2023
اردو _ ہماری پہچان!
خبریں

تحریر ۔۔۔۔سعدیہ اکیرا

25/10/2023

تازہ ترین

ملے بنا ہی بچھڑنے کے ڈر سے لوٹ آئے

بولے کوئی ہنس کر تو چھڑک دیتے ہیں جاں بھی

26/12/2023
تصویرِ میکدہ میری غزلوں میں دیکھئیے

یوں چٹکتی ہیں خرابات میں جیسے کلیاں

04/12/2023
ٹھیک ہے میں نہیں پسند اُنہیں

تھی نگہ میری نہاں خانۂ دل کی نقاب

04/12/2023
ملے بنا ہی بچھڑنے کے ڈر سے لوٹ آئے

صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

03/12/2023
ملے بنا ہی بچھڑنے کے ڈر سے لوٹ آئے

گر انکا تخت و تاج الٹا نہیں سکتے

02/12/2023
Facebook

نماز کے اوقات

  • صفحہ اول
  • Live Tv
  • Chat Room
  • شاعری
  • ہماری ٹیم
  • مزید
Whatsup only : +39-3294994663
About Us | Privacy Policy

© 2007 Mast Mast Fm ( Umar Avani )

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • Live Tv
  • Chat Room
  • شاعری
  • ہماری ٹیم
  • مزید
    • ویڈیو آرکائیو
    • غربت کا حصہ
    • کہانیاں

© 2007 Mast Mast Fm ( Umar Avani )

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In