8 °c
Islamabad
7 ° ہفتہ
8 ° اتوار
10 ° پیر
10 ° منگل
اتوار, دسمبر 7, 2025
  • Login
  • صفحہ اول
  • Live Tv
  • Chat Room
  • شاعری
  • ہماری ٹیم
  • مزید
    • ویڈیو آرکائیو
    • غربت کا حصہ
    • کہانیاں
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • Live Tv
  • Chat Room
  • شاعری
  • ہماری ٹیم
  • مزید
    • ویڈیو آرکائیو
    • غربت کا حصہ
    • کہانیاں
No Result
View All Result
No Result
View All Result
ہوم خبریں
پاکستانی ایٹمی پروگرام امریکی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ ہے، پومپیو

پاکستانی ایٹمی پروگرام امریکی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ ہے، پومپیو

پاکستانی ایٹمی پروگرام امریکی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ ہے، پومپیو

20/03/2019
0 0
0
شئیرز
6
ویوز
Share on FacebookShare on Twitter

واشنگٹن(سچ نیوز) امریکہ نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکی سلامتی کو درپیش دنیا کے پانچ بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔یہ اعتراف امریکہ کے سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے اتوار کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ہے۔نجی ٹی وی ہم نیوز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اتوار کو ایک انٹرویو میں امریکی سلامتی کو درپیش پانچ بڑے مسائل بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے غلط ہاتھوں میں لگ جانے کا خدشہ ان میں سے ایک ہے۔پاکستان کے جوہری اثاثوں کی حفاظت کا انتظام ہر لحاظ سے عالمی معیار کا ہے اس پر کوئی دو رائے نہیں ہے۔ بین الاقوامی ادارے اس پراپنی رپورٹ بھی دے چکے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ کے مطابق امریکہ کے سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے دعویٰ کیا کہ ہم نے پاکستان کے خلاف جو ایکشن لیے ہیں وہ ہم سے پہلے کسی حکومت نے نہیں لیے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے کو وہ بہت سنجیدہ لیتے ہیں کیونکہ انہوں نے خود اپنے دوستوں کو اس لڑائی میں کھویا ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی شخص یا ملک سے زیادہ قربانیاں پاکستان نے دی ہیں جس کا اعتراف خود امریکی حکام سمیت عالمی رہنما کرتے آئے ہیں۔افواج پاکستان اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت 60 ہزار کے قریب افراد کی جانوں کا نذرانہ اہل پاکستان نے دیا ہے اور ساتھ ہی اربوں روپے کا خسارہ بھی اٹھا یا ہے۔

مائک پومپیو کا کہنا تھا کہ ہم نے گیارہ ستمبر کے حملوں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور ہم نے پاکستان پر اس سلسلے میں مزید اقدامات کرنے کےلئے زور ڈالا ہے۔

دلچسپ بات ہے کہ جنوری میں امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے اپنے دورہ پاکستان میں تسلیم کیا تھا کہ پاک فوج نے اٹھارہ ماہ میں جو کام کیا ہے وہ امریکہ کی اٹھارہ سال سے خواہش تھی۔ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ امریکہ کی یہ غلطی ہے کہ پاکستان کےلئے پالیسی بار بار تبدیل کرتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ ’لو اور دو‘ کے اصول کے تحت تعلقات غلط ہیں۔

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہاں ہونے والی ملاقاتوں سے آگاہ کروں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ مشترکہ ملٹری آپریشن گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ عبوری سے اسٹریٹجک تعلقات کی طرف جانا ہو گا۔پاکستانی اقدامات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سرحد کے اطراف فینسنگ ایک اچھا اقدام ہے اور سرحد مخفوظ کرنے کی پاکستان کے پاس حکمت عملی بھی ہے لیکن کاش! ایسا افغانستان میں بھی ہوتا۔امریکی سینٹر لنڈسے گراہم نے کہا تھا کہ میں نے مثبت سمت میں چیزوں کو دیکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے جسے مزید بہتر بنانا ہے اورحالات میں استحکام ہمارے بھی مفاد میں ہے۔ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں امریکی سینیٹرکا کہنا تھا کہ ہم برطانیہ کو یہ نہیں کہتے کہ ہم آپ کی مدد کریں گے اور جوابی طور پر آپ ہمیں کچھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی پارٹنر شپ ہم پاکستان کے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں جس میں لین دین نہ ہو۔

وی او اے کے مطابق جب امریکہ کے سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ ان کی حکومت افغانستان میں ایک حتمی حل کےلئے کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان میں سیاسی اتفاق رائے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ایک سوال پر مائیک پومپیو نے کہا کہ زلمے خلیل زاد ابھی اسی سلسلے میں چھ سے آٹھ دن دوحہ میں مذاکرات کےلئے گئے تھے اور کل ہی لوٹے ہیں۔ ان کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں افغان حکومت اور طالبان کے ساتھ کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔امریکی سیکریٹری خارجہ نے واضح کیا کہ اب ہم چاہتے ہیں کہ یہ دونوں فریق ایک دوسرے سے بات کریں۔افغان طالبان ابتدا سے ہی افغان حکومت سے مذاکرات کرنے پہ تیارنہیں ہیں اوروہ اس سے تسلسل کے ساتھ انکار کرتے آئے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کے متعلق انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس بات کو واضح کر چکے ہیں کہ وہ اس طویل جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں مگر چاہتے ہیں کہ اس کا کوئی ایسا حل نکلے جس سے امریکہ کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کا خدشہ نہ رہے۔وائس آف امریکہ کے مطابق حالیہ دنوں میں افغان فورسز پر کیے جانے والے حملوں میں طالبان نے 50 افغان فوجیوں کو اغوا کر لیا تھا جبکہ اس سے ایک ہفتہ پہلے بھی 70 افغان فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔اس حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں امریکی سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ان حملوں سے افغان اور اتحادی فوجیں کمزوری کی پوزیشن پر آگئی ہیں۔مائیک پومپیو نے دعویٰ کیا کہ وہ جانتے ہیں کہ امن مذاکرات کی ٹیبل پر کون بیٹھا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ کو مزید محفوظ بنائیں۔

ShareSendTweetShare

Related Posts

اردو _ ہماری پہچان!
خبریں

عنوان: میڈیا کا ہماری زندگیوں میں کردار

31/10/2023
خبریں

معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کے صاحبزادے فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق

30/10/2023
خبریں

تحریر۔۔۔۔ بشریٰ جبیں  کالم نگار تجزیہ کار

26/10/2023
خبریں

*نوجوانوں کو توجہ کی ضرورت*

25/10/2023
خبریں

گرد آلود لہو لہو چہرے!

25/10/2023
اردو _ ہماری پہچان!
خبریں

تحریر ۔۔۔۔سعدیہ اکیرا

25/10/2023

تازہ ترین

ملے بنا ہی بچھڑنے کے ڈر سے لوٹ آئے

بولے کوئی ہنس کر تو چھڑک دیتے ہیں جاں بھی

26/12/2023
تصویرِ میکدہ میری غزلوں میں دیکھئیے

یوں چٹکتی ہیں خرابات میں جیسے کلیاں

04/12/2023
ٹھیک ہے میں نہیں پسند اُنہیں

تھی نگہ میری نہاں خانۂ دل کی نقاب

04/12/2023
ملے بنا ہی بچھڑنے کے ڈر سے لوٹ آئے

صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

03/12/2023
ملے بنا ہی بچھڑنے کے ڈر سے لوٹ آئے

گر انکا تخت و تاج الٹا نہیں سکتے

02/12/2023
Facebook

نماز کے اوقات

  • صفحہ اول
  • Live Tv
  • Chat Room
  • شاعری
  • ہماری ٹیم
  • مزید
Whatsup only : +39-3294994663
About Us | Privacy Policy

© 2007 Mast Mast Fm ( Umar Avani )

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • Live Tv
  • Chat Room
  • شاعری
  • ہماری ٹیم
  • مزید
    • ویڈیو آرکائیو
    • غربت کا حصہ
    • کہانیاں

© 2007 Mast Mast Fm ( Umar Avani )

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In