تحریر: سعدیہ اکیرا
عنوان: ہمارے نوجوانوں کے مسائل
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے اسی طرح نوجوان کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں انہوں نے ہی آگے چل کر ملک کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ پاکستان کی آبادی کا 29 فی صد حصہ 15سے 29 سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہیں جہنوں نے آگے چل کر اس ملک کو سنبھالنا ہے۔
لیکن جہاں اتنے سارے مسئلے ہیں وہی ہم نے اپنی اتنی بڑی تعداد کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی نہ کر کے اس بھی اپنے لیے ایک مسئلہ بنالیا ہے جنہوں نے مستقبل میں اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالی تھی اور جنہیں اس ملک کی بہتری کے لیے ایک ایک قدم سیکھنا تھا جو ہماری امیدوں کا سہارا تھے بد قسمتی سے آج وہ اس ملک کے بڑے مسئلوں میں ایک مسئلہ ہے ایسے لگتا ہے کہ اب کسی کو کوئی سمجھ نہیں آ رہی کہ اتنی بڑی افرادی قوت کو کس طرح سے سنبھالنا ہے
اور نہ ہی نوجوان کے مسائل پر موثر انداز میں کام کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ بے روزگاری، معیاری تعلیم کا فقدان، جرائم، منشیات،اور مذہبی انتہا پسندی کا سامنا کررہے ہیں اور ساتھ ہی ڈپریشن اور انزائٹی کا شکار ہو رہے ہیں جس سے خود کشی کا شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔
اور اس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہے ہیں ایک نوجوان آج اپنی تعلیم مکمل کرکے جب روزگار ڈھونڈنے نکلتا ہے پھر اس جب پتا چلتا ہے کہ سفارش اور بھاری رشوت کے بغیر اس کے لیے کوئی مستقبل نہیں ہیں جبکہ ان کے اپنے خواب اور ماں باپ کی امیدوں کا بوجھ سے مجبور ہو کر ڈاکہ زنی، چوری ، قاتل اور دہشت گردی جیسے گھناؤنے کام میں ملوث ہوجاتے ہیں اب رہی سہی کسر مہنگائی نے نکل دی ہے جسے نے پاکستان کے ہر طبقہ کو پریشان کیا ہوا ہے۔ انہی حالات سے تنگ آ کر کچھ نوجوان منشیات کا استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 76لاکھ ہے جن میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی ہے اس میں 78 فیصد مردوں کی ہے جبکہ 22 فصید لڑکیاں ہیں منشیات کی لت میں مبتلا ہونے والوں میں ہر سال 40 ہزار کا اضافہ ہورہا ہے جو ایک تشویش ناک صورت حال ہے
آخر کب تک لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا رہے گا کب تک صاحب اقتدار لوگ ہمارےنوجوان کو سبز باغ دکھا کر اپنا آلو سیدھا کرتے رہے گے وعدے بھی سبھی کرتے ہیں لیکن جب عمل کی باری آتی ہیں تو اس آبادی کے حصے کو بھول جاتے ہیں نوجوان میں اب احساس بیگانگی بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے بہت سے نوجوان یہ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں جسے ہم اپنا مستقبل کہتے ہیں وہ ہم سے دور ہو رہے ہیں
ان مسئلے کے حل کے لیے ریاست کو پہل کرنی چاہیے اور نوجوان کے مسائل کو ترجیح بنیادوں پر حل کرنا چاہیے اور اعتماد کی فضا پیدا کرنا بھی ریاست کی زمہ داری ہے تاکہ ملک کے اس قیمتی اثاثے کو بچا جاسکے
اللّٰہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین






