8 °c
Islamabad
7 ° ہفتہ
8 ° اتوار
10 ° پیر
10 ° منگل
جمعرات, مارچ 5, 2026
  • Login
  • صفحہ اول
  • Live Tv
  • Chat Room
  • شاعری
  • ہماری ٹیم
  • مزید
    • ویڈیو آرکائیو
    • غربت کا حصہ
    • کہانیاں
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • Live Tv
  • Chat Room
  • شاعری
  • ہماری ٹیم
  • مزید
    • ویڈیو آرکائیو
    • غربت کا حصہ
    • کہانیاں
No Result
View All Result
No Result
View All Result
ہوم کہانیاں
درندوں کے شکاری کی سرگزشت…قسط نمبر 35

درندوں کے شکاری کی سرگزشت…قسط نمبر 49

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 49

12/06/2019
0 0
0
شئیرز
45
ویوز
Share on FacebookShare on Twitter

قصہ کوتاہ ڈی ایف او نے مجھے چیتے کے شکار کی دعوت دی اور ساتھ ہی اپنے ساتھ بنگلے میں ٹھہرنے کی درخواست کی۔میں نے بتایا کہ میرے پاس اعلیٰ حکام کا اجازت نامہ نہیں تو اس کی پیشانی پر بل پڑگئے”کیا میں ڈی ایف او نہیں،کیا میری اجازت کافی نہیں؟“وہ لال پیلا ہو کر بولا:”جہنم میں جائیں اعلیٰ حکام،تم ابھی منتقل ہو جاﺅ۔“

دعوت قبول کیے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔

ڈی ایف او نے علیم کو گاڑی میں بھیج کر ایک اور کتا منگوایا۔اسے ڈرائننگ روم کے سامنے باندھ دیا گیا،تاکہ چیتا اس پر حملہ کرنے کے لیے آئے تو میں اسے نشانہ بنا سکوں۔یہ سب کچھ میری خواہشات کے برعکس تھا۔ کتا کبھی اچھا ساتھی ثابت نہیں ہوتا۔اسے زنجیر پہنا دی جائے تو وہ بھونکنے لگتا ہے۔اس طرح شیر یا چیتے ہوشیار ہو جاتے ہیں اور ہوا بھی یہی۔جوں جوں رات کی تاریکی بڑھتی گئی،کتے کی چیخوں سے سارا جنگل گونج اٹھا۔ڈی ایف او بھی میرے ساتھ ڈائننگ روم میں بیٹھا تھا۔ گیارہ بجے وہ اونگھنے لگا اور بیڈ روم میں چلا گیا۔

دو بجے شب چاند طلوع ہوا اور درختوں کے لمبے سایوں نے کتے کو ڈھانپ لیا جو اب اپنے آپ کو تقدیر کے حوالے کر چکا تھا اور گہری نیند سو رہا تھا۔مجھے بڑا رحم آیا اور تھوڑی دیر بعد میں نے اس کی زنجیر کھول دی۔اس نے تشکر بھری نظروں سے میری طرف دیکھا اور کمرے میں گھس کر ایک کونے میں لیٹ گیا۔میں نے صبح صادق تک چیتے کا انتظار کیا، آخر مایوس ہو کر سو رہا۔

دوپہر کے کھانے کے بعد ڈی ایف او،نندیال واپس چلا گیا۔میں نے بھی آدھی رات کی ٹرین سے بنگلور کا رخت سفر باندھا۔چلتے وقت علیم کو اپنا پتا دے دیا تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو وہ فی الفور مجھے خط لکھ سکے۔

چار ماہ بعد اچانک مجھے اس کا خط موصول ہوا….لکھا تھا کہ پل اور ندی کے درمیان بیرونی سگنل کے قریب ایک ریلوے ملازم ہلاک پایا گیا۔ اس کی لاش مسخ شدہ تھی۔بعض لوگ اس کی موت کا ذمہ دار شیر کو گردانتے،بعض سفید ریچھ پر الزم دھرتے، کوئی اسے جن بھوت کی شرارت قرار دیتا لیکن علیم کا خیال تھا یہ چیتے کی کارستانی ہے۔اس نے مجھے جلد از جلد وہاں آنے کی دعوت دی تھی۔

میں نے جواب دیا کہ میرے آنے تک ایک تو لاش بھی گل سڑ جائے گی، دوسرے چیتا کسی اور طرف نکل جائے گا اور اسے تلاش کرنا آسان نہ ہو گا لیکن اگر کوئی اور سانحہ رونما ہوا تو مجھے فوراً لکھا جائے تاکہ درندے کا انسداد کیا جا سکے۔

اگلا خط ایک ماہ بعد ملا، اس میں ندی کی دیکھ بھال کرنے والے ملازم کی موت کا ذکر تھا۔ وہ ایک اور ریلوے ملازم کے ساتھ جس کی ڈیوٹی بیرونی سگنل پر لیمپ روشن کرنا تھی، مل کر چھ بجے شام وہاں سے گاﺅں جایا کرتا تھا۔ مدت سے ان کا یہی معمول تھا۔وقوعہ کے روز ریلوے ملازم نے سگنل کے نزدیک اس کا دیر تک انتظار کیا۔پھر وہ اسے آوازیں دے کر بلاتا رہا”رام، رام، رام!“ کوئی جواب نہ پا کر ندی کی طرف چل دیا۔ایک جگہ جنگل کے قریب رام مردہ پڑا تھا۔نرم ریتلی زمین پر چیتے کے پاﺅں کے نشانات نمایاں تھے۔

ریلوے ملازم سرپٹ بھاگ کھڑا ہوا اور اسٹیشن پر پہنچ کر دم لیا۔

”جلدی آئیے۔“خط کے آخر میں اس نے درخواست کی تھی۔”ہمارے درمیان آدم خور چیتا موجود ہے۔“

بدقسمتی سے اس روز میں قدرے مصروف تھا۔ اس لیے رات کو بذریعہ کارجانے کا پروگرام بنایا۔ شام کے وقت اپنا سامان باندھ رہا تھا کہ باہر دروازے پر گھنٹی بجی۔ملازم دوڑ کر گیا۔ ہر کارہ ایک ٹیلی گرام لایا تھا۔اس میں لکھا تھا:

”چیتے نے بہن کے ایک بچے کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔خدا کے لیے اب دیر مت لگائیے۔علیم“

صبح سے پہلے میں عازم سفر ہو چکا تھا۔

اگر آپ کو وگوماتا فارسٹ ریسٹ ہاﺅس جانے کا اتفاق ہوا ہے تو عمارت کے جنوب مشرقی کونے پر بیس گز دور ایک ابھری ہوئی قبر ضرور دیکھی ہو گی جس پر یہ کتبہ لگا ہوا ہے۔”شرارتی۔“کئی برس پیشتر برطانوی دور میں ایک انگریز فارسٹ آفیسر اپنے کتے شرارتی کے ساتھ بنگلے میں ٹھہرا تھا کہ ایک رات کسی درندے نے کتے پر حملہ کر دیا۔انگریز نے جلدی سے بندوق فائر کر دی۔درندے کے ساتھ کتا بھی ہلاک ہو گیا۔ اس نے کتے کو قبر میں دبا کراس کے نام کا کتبہ لگا دیا۔

جیسے ہی میں نے کار سے اترنے کے لیے دروازہ کھولا،علیم نے تازہ ترین واردات کی تفصیلات سنانا شروع کر دیں:”میری بہن کی بڑی لڑکی روزانہ’شرارتی“کی قبر پر پھول رکھا کرتی تھی لیکن ایک دن وہ ایسا کرنا بھول گئی۔ شام کو اسے یاد آیا تو امی سے کہنے لگی:”میں شرارتی کی قبر پر جارہی ہوں۔“

”پیاری۔“یہ لڑکی کا نام تھا۔”اندھیر اچھا گیا ہے،اب صبح وہاں پھول رکھ آنا۔اس وقت چیتا تمہیں نگل جائے گا۔“

پیاری جواب دیے بغیر قبر کی طرف چلی گئی۔وہ وہاں پہنچی ہو گی، کیونکہ پھولوں کی پتیاں قبر کے آس پاس بکھری ہوئی تھیں۔کسی نے بھی چیخ پکاریا چیتے کی غراہٹ نہ سنی لکن پیاری واپس نہ آئی۔ماں نے خطرے کی بوسونگھتے ہوئے شور مچایا اور وہ سب لالٹین ہاتھ میں لیے لڑکی کو تلاش کرنے لگے۔قبر سے کچھ فاصلے پر خون کے قطرے دکھائی دیے۔ان کی چیخ پکار سن کر گاﺅں کے لوگ بھی آگئے لیکن چیتے کے خوف سے کوئی شخص بھی جنگل میں گھسنے کا نام نہ لیتا تھا۔

علیم نے تجویز پیش کی کہ میں دیسی کپڑے پہن کر شرارتی کی قبر پر بیٹھ جاﺅں اور چیتے کی دوبارہ آمد کا انتظار کروں۔کپڑے بدلنے میں مصلحت یہ تھی کہ چیتا پتلون اور بشرٹ سے خوف کھا سکتا تھا جبکہ دیسی کپڑوں میں وہ مجھے سیدھا سادا دیہاتی تصور کرتا اور حملہ کرنے کی صورت میں میں اسے نشانہ بنا سکتا تھا۔(جاری ہے)

ShareSendTweetShare

Related Posts

عبدالقدیر خان
خبریں

عبدالقدیر خان

11/10/2021
اب اگر میں کہوں قصور ٹیچرکا تھا تب بھی میں مجرم
کہانیاں

اب اگر میں کہوں قصور ٹیچرکا تھا تب بھی میں مجرم

12/03/2021
چھوٹے تم بہادر ھو بس کبھی کمزور مت پڑنا
کہانیاں

چھوٹے تم بہادر ھو بس کبھی کمزور مت پڑنا

30/01/2021
شیخ الحدیث والتفسیر علامہ حافظ خادم حسین رضوی
کہانیاں

شیخ الحدیث والتفسیر علامہ حافظ خادم حسین رضوی

22/11/2020
دنیا میں تیرے کچھ نیک بندے بھی ہیں جو ھم خواجہ سرا سے بھی رحم اور تہذیب سے پیش آتے ھیں۔
کہانیاں

دنیا میں تیرے کچھ نیک بندے بھی ہیں جو ھم خواجہ سرا سے بھی رحم اور تہذیب سے پیش آتے ھیں۔

11/08/2020
ہمیں صحافی ہونے پر فخر ہے کرونا کا خوف ہو یا گولیوں کی ترتراہٹ آندھی ہو یا طوفان ہمارا قلم ہمارا کیمرا آپکے حقوق کے لیے ریڈی رہتا ہے
کہانیاں

رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ

26/04/2020

تازہ ترین

ملے بنا ہی بچھڑنے کے ڈر سے لوٹ آئے

بولے کوئی ہنس کر تو چھڑک دیتے ہیں جاں بھی

26/12/2023
تصویرِ میکدہ میری غزلوں میں دیکھئیے

یوں چٹکتی ہیں خرابات میں جیسے کلیاں

04/12/2023
ٹھیک ہے میں نہیں پسند اُنہیں

تھی نگہ میری نہاں خانۂ دل کی نقاب

04/12/2023
ملے بنا ہی بچھڑنے کے ڈر سے لوٹ آئے

صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

03/12/2023
ملے بنا ہی بچھڑنے کے ڈر سے لوٹ آئے

گر انکا تخت و تاج الٹا نہیں سکتے

02/12/2023
Facebook

نماز کے اوقات

  • صفحہ اول
  • Live Tv
  • Chat Room
  • شاعری
  • ہماری ٹیم
  • مزید
Whatsup only : +39-3294994663
About Us | Privacy Policy

© 2007 Mast Mast Fm ( Umar Avani )

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • Live Tv
  • Chat Room
  • شاعری
  • ہماری ٹیم
  • مزید
    • ویڈیو آرکائیو
    • غربت کا حصہ
    • کہانیاں

© 2007 Mast Mast Fm ( Umar Avani )

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In