- پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر رانی پور کے علاقے میں چودہ آگسٹ تک سب کچھ نارمل تھا اور چھ دن قبل صوبائی اسمبلی کو معطل کر دیا گیا تھا ، اب 2023 کے الیکشن کی تیاریاں شروع ہونی تھیں ایسے میں ایک خبر کو جان بوجھ کر اسکے اصل حقائق کے الٹ نشر کیا گیا ، خبر کچھ اس طرح کی تھی کی رانی پور کے سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے خاندان کے ایک فرد نے دس سال کی بچی کو گھر کے ایک کمرے میں تشدد اور زیادتی کے بعد قتل کرکے نعش کو بنا پوسٹ مارٹم کے دفنا دیا ، اسکے ساتھ ایک سی سی ٹی وی وڈیو بھی وائرل کی گئی ، جس میں سوشل میڈیا پر یہ افواھ پھیلائی گئی کے بچے کے بدن پر کپڑے نہیں ہیں اور اسکے پائوں بندھے ہوئے ہیں جبکہ زیادتی کرنے والا بندہ شراب کے نشے میں دھت ہوکے سو رہا جبکہ بچی تڑپ تڑپ کر دم توڑ گئی، اس خبر نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا سندھ کے ریجنل چیئنلز بھی بنا تحقیق صرف اپنی ریٹنگ بڑھانے کی خاطر خبر کو بریکنگ نیوز بنا بنا کے نشر کرتے رہے ، جبکہ دوسری طرف کے ملزموں کے بیان تک لینے کی زحمت نہیں کی ےگئی ،ایک افواھ کو بہت بڑی خبر بنا کے نشر کرتے گئے اسکی وجہ سے ادارے بھی حرکت میں آگئے ملزم کو گرفتار کیا گیا اور اس کیس کی تحقیقات شروع کردی گئی ، یہ خبر پاکستانی نیوز ایجنسیز کے علاؤہ انٹرنیشنل نیوز چینلز نے بھی نشر کی ، میڈیکل بورڈ کی پہلی غیر حتمی رپورٹ میں لڑکی کے جسم پر نو زخم پائے گئے سر میں شدید چوٹیں نوٹ کی گئیں اور دوطرفہ زیادتی کا بھی خدشہ دکھایا گیا ! اس رپورٹ نے جلتی پر تیل کا کام کیا ، ان ڈاکٹرز کو قومی ہیرو بنانے کے اعلانات کیئے گئے ، جبکہ اس کیس میں ڈی این اے رپورٹ آنی باقی تھی تب تک اداروں نے ملزم سید اسداللہ شاھ ، اور ایک ڈاکٹر فتاح میمن اور ایس ایچ او سمیت دیگر افراد کو گرفتار کیئے رکھا ، یہاں تک کے گورنمنٹ ہسپتال کے ایم ایس کو بھی گرفتار کرکے تھانے میں ڈال دیا گیا ، یہ سب صرف ایک سوشل میڈیا کی افواہ پر کیا گیا ، اب آتے ہیں اسکے اصل ایشو کے اوپر بقول ملزم سید اسد شاھ کے کہ، بچی فاطمہ کو ملزم کے دو چھوٹے بچوں کو کھیل کود کرانے کے لیئے تین ہزار مھینہ پر رکھا گیا تھا جس میں اسکے کھانے پینے کپڑے رہائش وغیرہ کا انتظام بھی شامل تھا ، بارہ آگست کو بچی کو لوز موشن ہوگئے جسکی بنیادوں پر محلے کے فیملی ڈاکٹر سے بچی کا علاج کرایا گیا جس کے بعد تیرہ آگست کو ڈاکٹر کو فون پر بچی کا پیٹ پھول جانے کا بتایا گیا ، جس کے اوپر ڈاکٹر نے ایک ڈرپ اور کچھ مزید ادویات لکھ کر دیں جس کو ایک ہسپتال کے ڈسپینسر سے ڈرپ لگوائی گئی جسکی بھی سی سی ٹی وی موجود ہے کہ جس میں بچی کو ایک کرسی پر بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے پچی کو بڑے اہتمام کے ساتھ سر پر دوپٹہ اوڑھایا گیا تھا جسکی آگلی فوٹیج میں فرش پر رلھی ( سندھی بستر ) بچھا کے اس پر لٹا دیا گیا جہاں پر ڈرپ لگوائی گئی فوٹیج میں بچے اور سید اسداللہ شاہ کو دیکھا جاسکتا ہے ، جسکے بعد بچی کی طبیت میں کچھ بہتری آئی دوسری طرف بچی کی لیبارٹری سے رپورٹس بھی آگئیں جس میں بچی کو ہیپاٹائٹس بی کی تصدیق ہوگئی تھی ، ٹھیک چودہ آگست دوپہر کو جب سارے گھر کے لوگ باہر صحن میں اپنے اپنے کام میں مصروف تھے ٹھیک اسی وقت بچی نیچے فرش پر بچھائے گئے بستر پر سو رہی تھی اور ملزم اسداللہ شاہ اوپر بیڈ پر سو رہا تھا کہ اچانک بچی فاطمہ کی سانس رکنے لگی جسکی وجہ سے وہ تڑپنے لگی اور صرف ڈیڑھ منٹ کے قلیل وقت میں بچی بنا کوئی آواز کیئے فوت ہوگئی ، کچھ دیر بعد گھر کی مالکہ اور سید اسداللہ شاہ کی بیوی ہال میں داخل ہوئی اور بچی کو عجیب حالت میں دیکھ کر دوسری بچی سے اس بچی کو ہلانے کے لیئے کہا جب بچی کی کوئی حرکت نہ دیکھی تو وہ چلانے لگی جس کی آواز پر بیڈ پر سویا ملزم اٹھ کھڑا ہوا اور بچی کو ہلانے لگا ، مگر بچی تب تک فوت ہوچکی تھی ۔
اس کے بعد احمد پور حدود کے تھانے کے ایس ایچ او کو بھی اطلاع کی گئی اور ایس ایچ او کی نگرانی میں نعش کو ورثاء کے حوالے کردیا گیا ایس ایچ او نے ورثاء کے بیان لیئے اور وہیں موجود کچھ ویب چینلز کے رپورٹرز نے ورثاء کے بیان بھی لیئے ، بچی کا والد ندیم واضح طور پر وڈیو بیان میں کہہ رہا ہے کہ بچی بیمار تھی جسکی انہیں اطلاع کی گٸی تھی اور ملزم اسکا برابر سے علاج بھی کرا رہا تھا مگر بچی کی جان نہ بچ سکی ، ایک اور سوال پر بچی کے والد نے کہا کے بچی کے جسم پر کوئی بھی تشدد کا نشان نہیں تھا اور بچی قدرتی موت مرگئی ہے ، بلکل اس سے ملتا جلتا بیان بچی کی والدہ شبنم نے بھی رکارڈ کروایا جس کے بعد بنا پوسٹ مارٹم کے بچی کو سپرد خاک کردیا گیا ، مگر اسکے اگلے دن یہ افواھ گردش میں آگئی کہ بچی کا قتل ہوا ہے، تقریبن چھ دن بعد قبر کشائی کرکے بچی کی نعش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا پرووینل رپورٹ نے تہلکہ مچادیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر ملزم اور اسکے خاندان سمیت پوری سندھ کے درگاہوں کی توہین کی گئی پیرو بزرگوں اور اولیاء کرام پر بہتان لگائے گئے ، اگر کسی مرید یا انکے حمایتیوں نے جواب دینے کی کوشش کی تو انکو انتظامیہ نے فورن گرفتار کرکے انکے خلاف حکومت کی جانب سے کیس بنائے گئے ، مطلب ایسا ماحول بنادیا گیا جس میں ملزم کو ہر حال میں مجرم ثابت کرنے کے بھانے ڈھونڈنے گئے ، اندازے لگائے گئے کہ اگر ڈی این اے رپورٹ میں اسداللہ شاہ ملوٹ نہیں پایا گیا تو ہم اس رپورٹ کو نہیں مانیں گے اور ایسا ہی ہوا جب ڈی این اے رپورٹ آئی تو ملزم اس رپورٹ میں بیقصور ثابت ہوا ، ایسے میں ایک بار پہر ملزم کو کراچی لے جایا گیا جہاں دوبارہ انکے ڈی این اے سیمپل لیئے گئے اور دوبارہ وہ سیمپل لاہور کی لیبارٹری میں بھیج دیئے گئے ، دوسری طرف ڈاکٹرز اور ایس ایچ او سمیت دیگر کو رہا کرنے کی کوشش کی تو دوبارہ سوشل میڈیا اٹیک پر انکو واپس تھانے بلا لیا گیا ، دوسری طرف بچی کے والدین کو مختلف لوگوں اور فلاحی اداروں کی جانب سے لاکھوں روپے کی امداد دی گئی اور انکے ہاں میڈیا کے لوگوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں، اب اس صورتحال میں انصاف کیسے ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، یہ سارا معاملا قتل کا ہو یا نہ ہو مگر یہ سیاسی چال ہو سکتی ہے کیونکہ اس میں بار بار ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی خیرپور سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایم این اے سید فضل شاھ جیلانی کو بھی اس کیس میں گرفتار کیا جائے ، حالانکہ سید فضل شاھ کا دور دور تک اس کیس سے کوئی تعلق نہیں مگر اس ایشو کو بڑھاوا دینے والوں کا ایسے لگتا ہے کہ کوئی سیاسی فائدہ ہی ہوگا ۔





