دمشق(سچ نیوز)شام میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے امریکی حمایت یافتہ شامی فورسز کے 21 اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری کے مطابق القاعدہ کے شدت پسندوں نے شامی صوبے ادلب کے قریب حملہ کرتے ہوئےامریکی حمایت یافتہ شامی فورسز کے 21 اہلکاروں کو ہلاک کردیا،شامی فورسز اور جنگجوؤں کے مابین معاہدے کے 6 ماہ بعد سب سے خوفناک حملہ تھا۔سیرین آبزرویٹری کے مطابق انصار التوحید سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے صبح کے وقت امریکی حمایت یافتہ شامی فورسز پر حملہ کرکے 21 اہلکاروں کو قتل کردیا جبکہ شامی فورسز کی جوابی کارروائی میں 5 جنگجوبھی ہلاک ہوئے۔واضح رہے کہ شام میں انصار التوحید نے حراس الدین نے بطن جنم لیا جو مذکورہ علاقے میں فعال ہے اور دونوں تنظیموں کو القاعدہ کی شاخیں سمجھا جاتا ہے۔شام کے صوبے حلب اور حما سمیت ادلب کے بعض حصوں میں حریف جماعت ہیۂ تحریرالشام (ایچ ٹی ایس) کا کنٹرول ہے اور ایچ ٹی ایس میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے سابق جنگجو شامل ہیں۔دوسری جانب عسکری ذرائع نے ریاستی نیوز ایجنسی ثنا کا حوالہ دے کر تصدیق کی کہ صوبہ حلب کے قریب حملے میں سپاہی ہلاک اور زخمی ہوئے۔شام کے وزیر خارجہ نے حملے سے متعلق بیان میں کہا کہ شام دہشت گردوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کو ہرگز حملوں کی اجازت نہیں دے گا، ان کے حملے میں شہری اور مسلح فورسز کے اہلکار ہلاک ہوتے ہیں۔واضح رہے داعش نے 2014 کے موسم سرما میں عراق کے شمال مغرب میں دوسرے بڑے شہر موصل کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد دارالحکومت بغداد کی جانب پیش قدمی کی تھی۔بعد ازاں امریکا نے فضائی کارروائی کے ذریعے عراق کی سرحدوں پر قبضہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف مسلح مہم شروع کردی تھی اور طویل جدوجہد کے بعد فوج نے نومبر 2017 میں موصل کا قبضہ دوبارہ حاصل کرلیا تھا۔واضح رہے کہ شام میں امریکا کی سربراہی میں ڈیموکریٹک فورسز نے اکتوبر میں الرقہ پر قبضہ حاصل کرلیا تھا۔امریکا اور روس دونوں نے اپنی اپنی اتحادی فورسز کے ساتھ خصوصی تعاون کیا تھا اور فضائی کارروائیاں کی تھیں۔روس کی جانب سے شام میں صدر بشارالاسد کی زیرسرپرستی حکومتی فورسز کی پشت پناہی کی جارہی ہے۔






