ولنگٹن(سچ نیوز) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر حملہ کرنے والے سفاک ملزم نے اب جیل میں حقوق نہ ملنے کے خلاف درخواست دائر کر دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق ملزم حملے کے بعد سے آکلینڈ جیل میں قید ہے جہاں اس سے کسی کو ملنے اورموبائل فون رکھنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی اسے ٹی وی اور اخبار تک رسائی دی گئی ہے۔ اس نے ڈیپارٹمنٹ آف کوریکشن کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ”مجھے جیل میں بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ “
رپورٹ کے مطابق اس نے جیل میں سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے ہمہ وقت زیرنگرانی اور تنہائی میں رکھنے جیسے عوامل کو بھی اپنی درخواست میں چیلنج کیا ہے اور موبائل فون مہیا کرنے اور ملنے آنے والے سے ملاقات کرنے کی اجازت مانگی ہے۔ نیوزی لینڈ کے کوریکشنز ایکٹ کے تحت قیدیوں کو موبائل فونز مہیا کیے جاتے ہیں جن کے ذریعے وہ صرف کال کر سکتے ہیں، ان پر اِن کمنگ کال کی سہولت نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ وہ ای میلز موصول کر سکتے ہیں۔ انہیں علاج، بستر، خوراک اور مشروبات مہیاکیے جاتے ہیں اور ملاقاتیوں سے ملوایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں اخبار اور ٹی وی تک بھی رسائی دی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سانحہ کرائسٹ چرچ کے اس ملزم کو 5اپریل کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔تاہم اسے بہ نفس نفیس عدالت میں نہیں لیجایا جائے گا بلکہ ویڈیو لنک کے ذریعے وہ عدالت میں اپنی نمائندگی کرے گا۔






