نسل نو میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان
تحریر۔۔۔۔۔ بشریٰ جبیں کالم نگار وتجزیہ کار
تعلیمی اداروں اور نوجوان نسل میں منشیات کا استعمال فیشن بن گیا۔ تمباکو، چرس، شیشہ، افیون کے ساتھ’’ آئس‘‘ پینے کا رجحان نہ صرف لڑکوں ہی میں نہیں لڑکیوں میں بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ وہ ان کے نقصانات سے بے خبر بطورِ فیشن اور خود کو تسکین دینےکے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ عموماََ نوجوان اپنے دوستوں یا ملنے جلنے والوں کی ترغیب پر نشہ شروع کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کچھ نیا کر رہے ہیں۔ لیکن ان کو یہ شعور نہیں ہوتا کہ ان کا یہ قدم اُنہیں تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔
امیر ترین سوسائٹی کے نوجوان آئس کرسٹل، حشیش، ہیروئن کے ساتھ ساتھ مختلف ادویات کا استعمال کررہے ہیں، جبکہ مڈل کلاس کےنوجوان فارماسیوٹیکل ڈرگز، چرس، پان، گٹکا، نسوار اور سگریٹ وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں۔ زیادہ تر نوجوان کا تعلق پڑھے لکھے طبقے سے ہے اور یہی نوجوان ملک کا اثاثہ کہلاتے ہیں۔ جن اداروں میں مستقبل کے معمار تیار ہوتے ہیں، جہاں سے ملک کا روشن مستقبل پروان چڑھتا ہے، وہاں اب منشیات نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔ جن سے ان کی تعلیم اور کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہورہی ہے۔ لڑکیوں میں بھی شیشہ کا استعمال اب ایک فیشن بن گیا ہے۔ پاکستان سمیت آج پوری دنیا میں اس کےخلاف آواز اٹھائی جاری ہے، کہ نوجوانوں کو نشے سے باز رکھا جائے لیکن اس کے باوجود اس میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔نشے کا عادی شخص درد ناک کرب میں لمحہ لمحہ مرتا ہے۔ اس کی موت صرف اس کی نہیں ہوتی بلکہ اس کی خوشیوں کی خواہشات کی تمناؤں کی بھی موت ہوتی ہے ،ہمارے نوجوان اکثر و بیشتر معاشرتی ردعمل اور نامناسب رہنمائی کی وجہ سے نشے کی لعنت کو نہ صرف اپنا رہے ہیں بلکہ اپنے ساتھ اپنے خاندان والوں کےلئے بھی اذیت اور ذلت و رسوائی کا سبب بن رہےہیں۔ جب تک منشیات کے استعمال کے بڑھا وادینے والے اسباب ومحرکات کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک اس مسئلے کو کنڑول نہیں کیا جا سکتا اور جب تک زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ذمہ داران منشیات کی روک تھام کےلئے سنجیدہ کردار ادا نہیں کریں گے، اس وقت تک اس سنگین صورت حال پر قابو پانا مشکل ہے۔
ویسے تو منشیت کی ساری اقسام ہی انسان کو اندر سے کھوکھلا کرکے موت کے دہانےپرپہنچا دیتی ہیں لیکن بین الاقوامی ریسرچ کے مطابق “آئس” نشہ دیگر تمام منشیت کی اقسام سے زیادہ مہلک اور خطرناک ہے، اسے استعمال کرنے والے کو ابتدا میں تو سرور و مزے کے ساتھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس سے زیادہ طاقت وراورذہین کوئی نہیں لیکن اصل میں یہ اس نشےکی وہ لالچ ہے جو اسے استعمال کرنے والے کو مزید نشہ کرنے پرمجبورکرتی ہےاورچند دنوں میں عادی بن جانے کےبعد اس پینے والا سخت چڑچڑے پن اورموڈسوئنگ کا شکارہوتا ہے،اسکےبعد اسکی بھوک پیاس ختم ہوجاتی ہےجواسےجسمانی طورپرانتہائی کمزورکردیتی ہےاوررفتہ رفتہ اسےاپنےدل و دماغ پرکنٹرول نہیں رہتا۔
حکومت، والدین اوراساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کی تربیت اور نگرانی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں اور انہیں منشیات کے استعمال کے نقصانات سےآگاہ کریں۔اگر نوجوان نسل کو اس لت سے نجات نہ دلائی گئی تو پھر انہیں تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔بچوں کا کردار اور ان کا مستقبل ان اداروں اور اساتذہ کے پاس امانت ہوتا ہے، وہ اس کی مکمل پاسبانی کا اہتمام کریں اور کوئی ایسا چور دروازہ کھلانہ رہنے دیں، جہاں سے کسی کے بچے یا بچی کو نشے کی لت پڑ سکے۔ نوجوان جو ہماری قوم کا مستقبل ہیں اگر یہ ہی تند رست اور صحت مندنہیں ہوں گے توا ندا زا لگا ئیں کہ ہمارا مستقبل کیسا ہو گا؟






