اسلام آباد (روزنامہ سچ
)پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پی ٹی آئی دورحکومت میں آسان شرائط پر 3 ارب ڈالر قرض حاصل کرنے والے 628 افراد کے خلاف نیب کو تحقیقات مکمل کرنے اور آڈیٹر جنرل کو سٹیٹ بینک کے آڈٹ کا حکم دے دیا۔
پی اے سی اجلاس میں تحریک انصاف دور میں 628 افراد کو آسان شرائط پرقرض کی فراہمی کا جائزہ لیا گیا۔ نیب حکام نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اسکیم کیلئے شروع میں ایک سو ارب روپے رکھے گئے جو بڑھا کر 435 ارب روپے کردیے گئے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے لاکھوں سمز بلاک کردیں
نیب حکام کے مطابق مجموعی طور پر اس اسکیم کے تحت 1145ارب روپے جاری کیے گیے، قرض لینے والوں کو طویل مدت کیلئے 5 فیصد شرح سود پرقرض دیا گیا۔
رکن کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ قرض دراصل ڈالر میں دیا گیا جو ملک سے باہر گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس وقت ملک کی صورتحال ایسی تھی کہ ہم چار ارب ڈالرباہر بھیج سکتے تھے۔
رکن کمیٹی حسین طارق نےکہا کہ یہ قرض ڈالر میں لیا گیا اور روپے میں ادا کیا جائے گا۔
چیئرمین نورعالم خان نے کہا کہ تحقیقاتی اداروں کومکمل رپورٹ پیش کرنےدیں، ان 628 افراد کیخلاف کارروائی ہوگی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے آڈیٹرجنرل کو اسٹیٹ بینک کے آڈٹ کا حکم دیا۔
عمران خان کو نا اہل قرار دینے پر تحریک انصاف کارد عمل سامنے آگیا
چیئرمین نورعالم نے ڈیٹا لیکج تحقیقات کی پیشرفت سے متعلق استفسار کیا تو ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ نادرا کی طرف سے ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا رہا۔ چیئرمین پی اے سی نے ہدایت کی کہ اگرچیئرمین نادرا ریکارڈ فراہم نہ کرے تو ان کیخلاف ایف آئی آر کاٹیں اور گرفتارکریں۔
نور عالم خان نے سولہ ماہ میں لگاتار کام کرنے پر ممبران پی اے سی اور افسران اور ملازمین کا شکریہ ادا کیا۔