8 °c
Islamabad
7 ° ہفتہ
8 ° اتوار
10 ° پیر
10 ° منگل
جمعرات, مارچ 5, 2026
  • Login
  • صفحہ اول
  • Live Tv
  • Chat Room
  • شاعری
  • ہماری ٹیم
  • مزید
    • ویڈیو آرکائیو
    • غربت کا حصہ
    • کہانیاں
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • Live Tv
  • Chat Room
  • شاعری
  • ہماری ٹیم
  • مزید
    • ویڈیو آرکائیو
    • غربت کا حصہ
    • کہانیاں
No Result
View All Result
No Result
View All Result
ہوم کہانیاں
درندوں کے شکاری کی سرگزشت…قسط نمبر 54

درندوں کے شکاری کی سرگزشت…قسط نمبر 54

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 54

13/06/2019
0 0
0
شئیرز
7
ویوز
Share on FacebookShare on Twitter

چائے کی پیالی نے ہمیں گرما دیا تھا۔ہم نے سامان کندھوں پر لٹکایا اور چلنے کا ارادہ ظاہر کیا۔پجاری ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا:

’’سرکار،آپ نہتے ہیں،دن چڑھنے تک صبر کریں۔‘‘

مگر ہم تو رات ہی کوگھومنے نکلے تھے۔ہمیں چلتا دیکھ کر وہ بھی ساتھ ہولیا:’’صبح تک میں تمہارے ساتھ رہوں گا اور حتیٰ الامکان تمہاری حفاظت کروں گا،مبادا خونی ہاتھی سے سابقہ پیش آجائے اور وہ تمہیں کچل کر رکھ دے۔‘‘

ان منحوس الفاظ کے ساتھ ہمارے سفر کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا ۔کمپیکا رائے سے نکل کر ہم پھرندی کی طرف بڑھے۔میں ٹارچ جلائے سب سے آگے آگے تھا۔بار میرے پیچھے اور ایرک نے عقب سنبھال رکھا تھا۔ ہم تنگ راستے سے ہوتے ہوئے پھر وادی میں داخل ہو گئے۔سردی شباب پر تھی۔ ناگہاں بانسوں کے اندر سے جنگلی مرغ کے کڑکڑانے کی آواز آئی۔رات کے دو بج رہے تھے۔کوئی آدھ ایک میل چل کر میں نے بائرا کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔اس نے بتایا، ہاتھی کہیں آس پاس موجود ہے۔یقیناً یہ بہت قریب ہو گا، ورنہ بائرا خاموشی کے انداز میں ضرور خبردار کردیتا۔پھر اشارے ہی اشارے میں انتظار کرنے کو کہا اورہم ساکت وصامت کھڑے ہو گئے۔

معاً سراہٹ سی سنائی دی جو بلند سے بلند تر ہوتی جارہی تھی۔ ہاتھی سامنے سے ہماری طرف بڑھ رہا تھا۔ بائرا نے اچانک اشارہ کیا اور خود تیزی سے مڑا اور پنجوں کے بل بھاگنے لگا۔ ایرک نے اس کی پیروی کی، میں سب سے پیچھے رہ گیا۔ہاتھی نے ہماری بوپالی تھی اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا ہمارے پیچھے ہولیا۔یہی وہ خونی ہاتھی تھا جس سے بائرا نے ہمیں خبردار کیا تھا۔ وہ ہمارے بہت قریب پہنچ کر چنگھاڑاور پھر حملے کے انداز میں ہم پر پل پڑا۔

اب بھاگنا بے کار تھا۔یوں بھی ہمارے کندھوں پر سامان تھا اور بھاگنا ممکن بھی نہ تھا۔ جھاڑیوں میں بھی چھپنا لا حاصل تھا۔ موت ہمارے سر پرمنڈلا رہی تھی۔میں نے آخری حربہ آزمانے کا فیصلہ کیا۔فوراً ٹارچ روشن کر دی اور ساتھ ہی پورے زور سے نعرہ لگایا۔ روشنی کا دھارا دیوقامت ہاتھی کے اوپر پڑا جواب صرف دس گز دور رہ گیا تا۔ اس نے سونڈ میں کیچڑ ڈال رکھا تھا۔اس کا منہ قدرے کھلا ہوا تھا اور دانت بالکل میری سیدھ میں تھے۔آنکھیں ستم ڈھانے کو بے قرار تھیں۔اگلے ہی لمحے وحشی جانور رک گیا۔ اس کے اچانک رکنے سے کیچڑا چھل کر دور جاگرا۔میں گلا پھاڑے برابر چلا رہا تھا۔ بائرا نے مجھے موت کے منہ میں جاتے دیکھ کر قدم روک لیے تھے۔وہ میری مدد کو پہنچ گیا تھا۔اس نے بھی میرے ساتھ مل کر ہاتھی پر گا لیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ایرک پیچھے مڑ کر لگاتار بھاگے جارہے تھا۔

دیوہیکل جانور دائیں بائیں سرہلانے لگا۔ وہ ٹارچ کی روشنی سے بچتا چاہتا تھا لیکن میں نے روشنی اس کی آنکھوں پر مرکوز رکھی اور ساتھ ہی ساتھ گلا پھاڑ کر چلاتا رہا۔اب میں نے آخری قدم اٹھایا۔ ٹارچ سامنے کیے ہاتھی کی طرف چند قدم بڑھا۔روشنی کنکھجورے کی طرح اس کی آنکھوں سے چمٹ گئی تھی۔ وحشی جانور ہمت ہار بیٹھا۔اس نے گردن پھیری اور تنگ سے راستے پر آنکھیں جما دیں۔میں نے پوزیشن بدل کر ٹارچ کی روشنی اس کی آنکھوں سے ہٹنے نہ دی۔ہاتھی کے اعصاب جواب دے گئے۔ہماری کان پھاڑ دینے والی چیخوں اور پیچھا نہ چھوڑنے والی روشنی کے آگے وہ زیادہ دیر تک نہ ٹھہر سکا۔ اس نے آہستہ سے اپنا رخ بدلا اور بھاگ کھڑا ہوا۔بائرا اور میں نے اس کا پیچھا جاری رکھا۔اس نے دائیں طرف کی جھاڑیوں میں غائب ہو جانے میں عافیت سمجھی۔ہمارا مشن پورا ہو چکا تھا۔ ہمیں سیر کا حقیقی لطف حاصل ہو گیا تھا۔ہم واپس مڑے۔ایرک کو تلاش کرنا ضروری تھا۔وہ دور دور تک دکھائی نہ دیتا تھا۔ وہ کمپیکارائے کو جانے والے راستے کے بجائے بدحواسی میں دوسری طرف نکل گیا تھا۔ بائر تو اس کے پیچھے دوڑتا رہا مگر میری ہمت جواب دے گئی۔یوں لگتا تھا جیسے میں شدید بخار میں مبتلا ہوں۔میری پیشانی پسینے میں شرابور تھی۔اب بائرا بھی نظر نہ آرہا تھا۔ میں ندی پار کرکے بستی میں پہنچ گیا۔ تھکن سے برا حال تھا۔ بائرا کے ہاں پہنچتے ہی چار پائی پر گرپڑا۔(جاری ہے)

ShareSendTweetShare

Related Posts

عبدالقدیر خان
خبریں

عبدالقدیر خان

11/10/2021
اب اگر میں کہوں قصور ٹیچرکا تھا تب بھی میں مجرم
کہانیاں

اب اگر میں کہوں قصور ٹیچرکا تھا تب بھی میں مجرم

12/03/2021
چھوٹے تم بہادر ھو بس کبھی کمزور مت پڑنا
کہانیاں

چھوٹے تم بہادر ھو بس کبھی کمزور مت پڑنا

30/01/2021
شیخ الحدیث والتفسیر علامہ حافظ خادم حسین رضوی
کہانیاں

شیخ الحدیث والتفسیر علامہ حافظ خادم حسین رضوی

22/11/2020
دنیا میں تیرے کچھ نیک بندے بھی ہیں جو ھم خواجہ سرا سے بھی رحم اور تہذیب سے پیش آتے ھیں۔
کہانیاں

دنیا میں تیرے کچھ نیک بندے بھی ہیں جو ھم خواجہ سرا سے بھی رحم اور تہذیب سے پیش آتے ھیں۔

11/08/2020
ہمیں صحافی ہونے پر فخر ہے کرونا کا خوف ہو یا گولیوں کی ترتراہٹ آندھی ہو یا طوفان ہمارا قلم ہمارا کیمرا آپکے حقوق کے لیے ریڈی رہتا ہے
کہانیاں

رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ

26/04/2020

تازہ ترین

ملے بنا ہی بچھڑنے کے ڈر سے لوٹ آئے

بولے کوئی ہنس کر تو چھڑک دیتے ہیں جاں بھی

26/12/2023
تصویرِ میکدہ میری غزلوں میں دیکھئیے

یوں چٹکتی ہیں خرابات میں جیسے کلیاں

04/12/2023
ٹھیک ہے میں نہیں پسند اُنہیں

تھی نگہ میری نہاں خانۂ دل کی نقاب

04/12/2023
ملے بنا ہی بچھڑنے کے ڈر سے لوٹ آئے

صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

03/12/2023
ملے بنا ہی بچھڑنے کے ڈر سے لوٹ آئے

گر انکا تخت و تاج الٹا نہیں سکتے

02/12/2023
Facebook

نماز کے اوقات

  • صفحہ اول
  • Live Tv
  • Chat Room
  • شاعری
  • ہماری ٹیم
  • مزید
Whatsup only : +39-3294994663
About Us | Privacy Policy

© 2007 Mast Mast Fm ( Umar Avani )

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • Live Tv
  • Chat Room
  • شاعری
  • ہماری ٹیم
  • مزید
    • ویڈیو آرکائیو
    • غربت کا حصہ
    • کہانیاں

© 2007 Mast Mast Fm ( Umar Avani )

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In